لطیفہ 21:

استاد: بچوں، اگر تمہارے پاس ایک طرف دولت اور دوسری طرف عقل ہو تو کس کا انتخاب کرو گے؟

بچہ: دولت کا۔

استاد: غلط، میں عقل کا انتخاب کرتا۔

بچہ: آپ ٹھیک کہتے ہیں استاد جی، جس کے پاس جو چیز نہ ہو، وہی اس کا انتخاب کرتا ہے۔

لطیفہ 22:

بیوی: سنو، اگر مجھے کچھ ہو گیا تو آپ کیا کریں گے؟

شوہر: میں تو پاگل ہو جاؤں گا۔

بیوی: اچھا، دوسری شادی تو نہیں کرو گے؟

شوہر: پاگل آدمی کیا شادی کرے گا؟

لطیفہ 23:

پٹھان: بھائی، یہ دوائی کس لئے ہے؟

دوکاندار: یہ دماغ کے لئے ہے۔

پٹھان: تو پھر ہاتھ میں کیوں دے رہے ہو؟ سیدھا دماغ میں ڈالیں!

لطیفہ 24:

دوست: یار، تم ہر وقت اداس کیوں رہتے ہو؟

پٹھان: کیونکہ میری بیوی بہت سمجھدار ہے۔

دوست: سمجھدار بیوی کے ساتھ اداسی کیسی؟

پٹھان: وہ میرے ہر جھوٹ پکڑ لیتی ہے!

لطیفہ 25:

استاد: چاند اور سورج میں کیا فرق ہے؟

بچہ: استاد جی، چاند کو دیکھ کر لڑکیاں دعائیں مانگتی ہیں اور سورج کو دیکھ کر روزے دار!

لطیفہ 26:

بیوی: سنو، تمہیں میری کون سی بات سب سے زیادہ پسند ہے؟

شوہر: مجھے تمہاری شادی سے پہلے والی خاموشی سب سے زیادہ پسند تھی!

لطیفہ 27:

پٹھان دوست سے: یار، تمہیں رات کو نیند کیسے آتی ہے؟

دوست: میں آنکھیں بند کرتا ہوں اور سو جاتا ہوں۔

پٹھان: واہ، کیا کمال کا طریقہ ہے!

لطیفہ 28:

استاد: بچوں، فرض کرو تمہارے پاس دو سیب ہیں اور تمہیں تین دوستوں میں بانٹنے ہیں، تو کیا کرو گے؟

بچہ: استاد جی، میں سیب کھا کر معافی مانگ لوں گا!

لطیفہ 29:

بیوی: میں جو پوچھوں گی، سچ سچ بتانا!

شوہر: ٹھیک ہے، پوچھو۔

بیوی: میری عمر کتنی ہے؟

شوہر: یہی کوئی 18 سال۔

بیوی: جھوٹے، سب جانتی ہوں، 25 سال ہیں!

لطیفہ 30:

پٹھان: ڈاکٹر صاحب، مجھے سانپ نے کاٹ لیا ہے، مجھے کچھ ہوگا تو نہیں؟

ڈاکٹر: دیکھو، اگر سانپ زندہ رہا تو وہ بھی پریشان ہوگا!

لطیفہ 31:

استاد: بچوں، پیسہ ہاتھ کی میل ہے، اس کا پیچھا مت کرو۔

بچہ: استاد جی، مگر میل بڑھتی جا رہی ہے، دھونا بھی نہیں چھوڑ سکتے!

لطیفہ 32:

بیوی: آپ کو میری کون سی عادت اچھی لگتی ہے؟

شوہر: وہ جو شادی سے پہلے تھی، خاموش رہنے کی!

لطیفہ 33:

پٹھان دوست سے: یار، یہ دوائی کس کے لیے ہے؟

دوست: یہ دماغ کے لیے ہے۔

پٹھان: اچھا، تو پھر منہ سے کیوں کھاتے ہیں؟

لطیفہ 34:

استاد: اگر زمین گول ہے تو ہم گھومتے کیوں نہیں؟

بچہ: استاد جی، اس لیے کیونکہ ہم چپکائے ہوئے ہیں۔

لطیفہ 35:

بیوی: آپ میری ہر بات کیوں مانتے ہیں؟

شوہر: کیونکہ آپ ہر بات منوانا جانتی ہیں!

لطیفہ 36:

دوست: یار، تمہیں سب لڑکیاں پسند کیوں کرتی ہیں؟

پٹھان: کیونکہ میں سب کو یہ کہتا ہوں کہ وہ میری پسندیدہ ہے!

لطیفہ 37:

استاد: بچوں، بتاؤ چاند پر پانی ہے یا نہیں؟

بچہ: استاد جی، چاند پر پانی نہیں ہے، اسی لیے وہ خوش نظر آتا ہے۔

لطیفہ 38:

بیوی: آپ ہر وقت موبائل میں کیوں گھسے رہتے ہیں؟

شوہر: کیونکہ تمہیں دیکھنے سے بہتر یہی ہے!

لطیفہ 39:

پٹھان: ڈاکٹر صاحب، مجھے خواب میں گدھا نظر آتا ہے، کیا کروں؟

ڈاکٹر: رات کو جگا کر اپنے دوستوں کو نہ دیکھو!

لطیفہ 40:

استاد: چپ کرو، ورنہ کلاس سے باہر نکال دوں گا!

بچہ: استاد جی، باہر جا کر کیا کریں گے، آپ کی باتیں تو اندر بھی سن لیں گے!

لطیفہ 41:

بیوی: تم نے مجھے کس دن پہلی بار دیکھا تھا؟

شوہر: جب میرے برے دن شروع ہوئے تھے!

لطیفہ 42:

پٹھان: بھائی، یہ کپڑے کتنے کے ہیں؟

دکان دار: 2000 روپے۔

پٹھان: واہ! پچھلی بار تو آپ نے 3000 روپے بتائے تھے، قیمت کم ہو گئی ہے؟

دکان دار: نہیں بھائی، پچھلی بار آپ نے اچھے سے بھاؤ تاؤ کیا تھا۔

لطیفہ 43:

استاد: بچوں، اگر تمہیں کسی دن گھر پر کھانا نہ ملے تو کیا کرو گے؟

بچہ: استاد جی، ہم پھر میٹھا کھائیں گے!

لطیفہ 44:

بیوی: سنو، مجھے کس طرح کی لڑکیاں اچھی لگتی ہیں؟

شوہر: وہ جو اپنے شوہر کی باتیں مانتی ہیں۔

لطیفہ 45:

پٹھان دوست سے: یار، یہ تمہیں ہنسی کس بات پر آتی ہے؟

دوست: جب تمھاری باتیں سنوں تو ہنسی آتی ہے!

لطیفہ 46:

استاد: اگر تمہارے پاس 10 روپے ہیں اور تمہیں 3 روپے دے دیے جائیں تو تمہارے پاس کتنے روپے ہوں گے؟

بچہ: 10 روپے، استاد جی!

لطیفہ 47:

بیوی: آپ اتنے خاموش کیوں ہیں؟

شوہر: کیونکہ آپ بول رہی ہیں!

لطیفہ 48:

پٹھان: ڈاکٹر صاحب، مجھے بہت یاد آتی ہے۔

ڈاکٹر: کس کی؟

پٹھان: نیند کی، ڈاکٹر صاحب!

لطیفہ 49:

استاد: بچوں، انسان کے لیے سب سے قیمتی چیز کیا ہے؟

بچہ: استاد جی، دوسروں کا موبائل چارج کرنے کی سہولت!

لطیفہ 50:

بیوی: میں نے آپ کو خواب میں دیکھا!

شوہر: تبھی آج صبح دیر سے اٹھی ہو، نیند پوری کر رہی تھی!Top of Form

Bottom of Form

 

Comments

Popular posts from this blog

urdu lateefa

If humans are made of atoms why can't we make our own humans?

What causes a sharp stomach pain after eating anything?