استاد: بچوں، اگر تمہارے پاس ایک طرف دولت اور دوسری طرف عقل
ہو تو کس کا انتخاب کرو گے؟
بچہ: دولت کا۔
استاد: غلط، میں عقل کا انتخاب کرتا۔
بچہ: آپ ٹھیک کہتے ہیں استاد جی، جس کے پاس جو چیز نہ ہو، وہی
اس کا انتخاب کرتا ہے۔
بیوی: سنو، اگر مجھے کچھ ہو گیا تو آپ کیا کریں گے؟
شوہر: میں تو پاگل ہو جاؤں گا۔
بیوی: اچھا، دوسری شادی تو نہیں کرو گے؟
شوہر: پاگل آدمی کیا شادی کرے گا؟
پٹھان: بھائی، یہ دوائی کس لئے ہے؟
دوکاندار: یہ دماغ کے لئے ہے۔
پٹھان: تو پھر ہاتھ میں کیوں دے رہے ہو؟ سیدھا دماغ میں ڈالیں!
دوست: یار، تم ہر وقت اداس کیوں رہتے ہو؟
پٹھان: کیونکہ میری بیوی بہت سمجھدار ہے۔
دوست: سمجھدار بیوی کے ساتھ اداسی کیسی؟
پٹھان: وہ میرے ہر جھوٹ پکڑ لیتی ہے!
استاد: چاند اور سورج میں کیا فرق ہے؟
بچہ: استاد جی، چاند کو دیکھ کر لڑکیاں دعائیں مانگتی ہیں اور
سورج کو دیکھ کر روزے دار!
بیوی: سنو، تمہیں میری کون سی بات سب سے زیادہ پسند ہے؟
شوہر: مجھے تمہاری شادی سے پہلے والی خاموشی سب سے زیادہ پسند
تھی!
پٹھان دوست سے: یار، تمہیں رات کو نیند کیسے آتی ہے؟
دوست: میں آنکھیں بند کرتا ہوں اور سو جاتا ہوں۔
پٹھان: واہ، کیا کمال کا طریقہ ہے!
استاد: بچوں، فرض کرو تمہارے پاس دو سیب ہیں اور تمہیں تین دوستوں
میں بانٹنے ہیں، تو کیا کرو گے؟
بچہ: استاد جی، میں سیب کھا کر معافی مانگ لوں گا!
بیوی: میں جو پوچھوں گی، سچ سچ بتانا!
شوہر: ٹھیک ہے، پوچھو۔
بیوی: میری عمر کتنی ہے؟
شوہر: یہی کوئی 18 سال۔
بیوی: جھوٹے، سب جانتی ہوں، 25 سال ہیں!
پٹھان: ڈاکٹر صاحب، مجھے سانپ نے کاٹ لیا ہے، مجھے کچھ ہوگا
تو نہیں؟
ڈاکٹر: دیکھو، اگر سانپ زندہ رہا تو وہ بھی پریشان ہوگا!
استاد: بچوں، پیسہ ہاتھ کی میل ہے، اس کا پیچھا مت کرو۔
بچہ: استاد جی، مگر میل بڑھتی جا رہی ہے، دھونا بھی نہیں چھوڑ
سکتے!
بیوی: آپ کو میری کون سی عادت اچھی لگتی ہے؟
شوہر: وہ جو شادی سے پہلے تھی، خاموش رہنے کی!
پٹھان دوست سے: یار، یہ دوائی کس کے لیے ہے؟
دوست: یہ دماغ کے لیے ہے۔
پٹھان: اچھا، تو پھر منہ سے کیوں کھاتے ہیں؟
استاد: اگر زمین گول ہے تو ہم گھومتے کیوں نہیں؟
بچہ: استاد جی، اس لیے کیونکہ ہم چپکائے ہوئے ہیں۔
بیوی: آپ میری ہر بات کیوں مانتے ہیں؟
شوہر: کیونکہ آپ ہر بات منوانا جانتی ہیں!
دوست: یار، تمہیں سب لڑکیاں پسند کیوں کرتی ہیں؟
پٹھان: کیونکہ میں سب کو یہ کہتا ہوں کہ وہ میری پسندیدہ ہے!
استاد: بچوں، بتاؤ چاند پر پانی ہے یا نہیں؟
بچہ: استاد جی، چاند پر پانی نہیں ہے، اسی لیے وہ خوش نظر آتا
ہے۔
بیوی: آپ ہر وقت موبائل میں کیوں گھسے رہتے ہیں؟
شوہر: کیونکہ تمہیں دیکھنے سے بہتر یہی ہے!
پٹھان: ڈاکٹر صاحب، مجھے خواب میں گدھا نظر آتا ہے، کیا کروں؟
ڈاکٹر: رات کو جگا کر اپنے دوستوں کو نہ دیکھو!
استاد: چپ کرو، ورنہ کلاس سے باہر نکال دوں گا!
بچہ: استاد جی، باہر جا کر کیا کریں گے، آپ کی باتیں تو اندر
بھی سن لیں گے!
بیوی: تم نے مجھے کس دن پہلی بار دیکھا تھا؟
شوہر: جب میرے برے دن شروع ہوئے تھے!
پٹھان: بھائی، یہ کپڑے کتنے کے ہیں؟
دکان دار: 2000 روپے۔
پٹھان: واہ! پچھلی بار تو آپ نے 3000 روپے بتائے تھے، قیمت کم
ہو گئی ہے؟
دکان دار: نہیں بھائی، پچھلی بار آپ نے اچھے سے بھاؤ تاؤ کیا
تھا۔
استاد: بچوں، اگر تمہیں کسی دن گھر پر کھانا نہ ملے تو کیا کرو
گے؟
بچہ: استاد جی، ہم پھر میٹھا کھائیں گے!
بیوی: سنو، مجھے کس طرح کی لڑکیاں اچھی لگتی ہیں؟
شوہر: وہ جو اپنے شوہر کی باتیں مانتی ہیں۔
پٹھان دوست سے: یار، یہ تمہیں ہنسی کس بات پر آتی ہے؟
دوست: جب تمھاری باتیں سنوں تو ہنسی آتی ہے!
استاد: اگر تمہارے پاس 10 روپے ہیں اور تمہیں 3 روپے دے دیے
جائیں تو تمہارے پاس کتنے روپے ہوں گے؟
بچہ: 10 روپے، استاد جی!
بیوی: آپ اتنے خاموش کیوں ہیں؟
شوہر: کیونکہ آپ بول رہی ہیں!
پٹھان: ڈاکٹر صاحب، مجھے بہت یاد آتی ہے۔
ڈاکٹر: کس کی؟
پٹھان: نیند کی، ڈاکٹر صاحب!
استاد: بچوں، انسان کے لیے سب سے قیمتی چیز کیا ہے؟
بچہ: استاد جی، دوسروں کا موبائل چارج کرنے کی سہولت!
بیوی: میں نے آپ کو خواب میں دیکھا!
شوہر: تبھی آج صبح دیر سے اٹھی ہو، نیند پوری کر رہی تھی!

Comments
Post a Comment